17 دسمبر 2011 - 20:30

عوام شہدائے قطیف کے وفادار / مشعل بردار خواتین کے مظاہرے / الرامس کے علاقے پر سعودی گماشتوں کا حملہ / دو اسیر نوجوانوں پر تشدد / القطیف میں عوام کے مظاہرے / پرامن شہریوں پر گولی چلائی گئی / القدیح میں شہداء کے ساتھ تجدید عہد/ شیعہ عالم دین کے اغوا کی ناکام کوشش / اسیروں کا انجام نامعلوم / آل سعود کا قومی ایوارڈ یہودی کو ملا! / سعودی شہزادہ جنسی زیادتی کی بنا پر مطلوب قرار / مسجدالحرام کے دروازوں کے نام تبدیل کئے / خاتون کا سرقلم کرنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار حیرت لیکن مذمت نہیں!۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جزیرہ نمائے عرب کے عوام کے مظاہروں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جن کی وجہ سے آل سعود کو مظاہروں کا سلسلہ ملک گیر ہونے کا شدید خوف لاحق ہوگیا ہے چنانچہ سعودی حکمران الشرقیہ کے علاقے میں ہی اس احتجاجی تحریک کا گلا گھونٹنے پر تلی ہوئے ہیں اور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے تمام ممکنہ حربے آزماتے نظر آرہے ہیں۔ ذیل میں یہ ہے  سعودی عرب کی گذشتہ چار دنوں کی صورت حال پیش خدمت ہے گوکہ سعودی عرب میں سنسر شدید ہے اور اکثر واقعات کو میڈیا کوریج دینا ممکن نہیں ہے:ــ سعودی عرب: جزیرةالعرب کے عوام شہدائے قطیف کے وفادار منطقۃ الشرقیہ کے صوبے القطیف کے عوام نے آل سعود کے ہاتھوں قتل والے شہداء کی حمایت میں اپنے پر امن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا اور کل شام کے وقت القطیف کی سڑکوں پر آکر جلوسوں اور ریلیوں کا اہتمام کیا اور شہداء کے ساتھ وفاداری نیز اسیروں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔ مظاہرین نے ان ریلیوں میں آل سعود کی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور شہدائے قطیف کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے اور بحرین سے آل سعود کی قابض فوج کے فوری انخلاء کا مطالبہ کیا۔ ــ سعودی عرب: مشعل بردار خواتین کے مظاہرےمشعل بردار خواتین نے قیدیوں کی رہائی کے لئے پرسوں رات اور کل رات القطیف میں مظاہرے کئے جبکہ آل سعود سے وابستہ سیکورٹی والوں نے الرامس کے زرعی علاقے پر حملہ کیا۔سعودی عرب کے منطقۃالشرقیہ میں کل رات مشعل بردار خواتین نے مظاہرہ کیا اور آل سعود استبداد کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے شہدائے قطیف کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے اور آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل شیعہ اور سنی اسیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ سعودی خواتین نے پرسوں رات بھی شمعیں روشن کرکے قطیف کے شارع الشویکہ میں قیدیوں کی رہائی کے لئے جلوس نکالا تھا۔ ــ سعودی عرب: الرامس کے علاقے پر آل سعود کے گماشتوں کا حملہاطلاعات کے مطابق آل سعود سے وابستہ فورسز نے العوامیہ میں "الرامس" نام زرعی علاقے پر حملہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق العوامیہ نامی ویب ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں عینی شاہدین کے حوالے سے لکھا ہے کہ آل سعودی کی فورسز العوامیہ کے عوام کو اپنے ساتھ براہ راست جھڑپوں میں ملوث کرنے کی مذموم کوششوں میں ناکامی کے الرامس کے علاقے پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں بڑی تعداد میں کریمنل انویسٹی گیشن کے ادارے کے اہلکاروں نے شرکت کی ہے۔ شاہدین نے کہا کہ آل سعود کے جلاد اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد عوام پر ہتھیار اور گولہ بارود رکھنے کے بے بنیاد الزامات لگانا شروع کئے ہیں جو ان کی مکمل ناکامی کی علامت ہے۔ دریں اثناء تین نوجوانوں کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کردیا گیا۔اطلاعات کے مطابق سعودی حکام نے کل العوامیہ کے علاقے میں  "رضا الفریرص"، "مرتضی التحیفہ"، اور "جلال السعید" نامی تین نوجوانوں کو گرفتار کرکے العوامیہ کے سعودی سیکورٹی مرکز منتقل کیا جہاں انہیں وحشیانہ انداز سے زد و کوب کیا گیا اور تشدد کے بعد رہا کردیا گیا۔آل سعود کے گماشتوں نے ان افراد پر سیکورٹی فورسز کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا الزام لگایا ہے!!!۔ــ سعودی عرب: الشرقیہ کے شہر القطیف میں عوام کے مظاہرےالقطیف کے عوام نے اپنے مظاہرے میں اسیروں کی رہائی اور چھ نوجوانوں کے قتل میں ملوث سعودی اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔اطلاعات کے مطابق القطیف کے عوام نے آل سعود کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا اور حکومت سے اسیروں کی رہائی اور سعودی گماشتوں کی حالیہ پرتشدد کاروائیوں میں شہید ہونے والے چھ نوجوانوں کے قاتلون پر مقدمہ چلانے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے الشرقیہ کے سعودی حکمران "محمد بن فہد" کے خلاف نعرے لگائے؛ وہ "محمد بن فہد مردہ باد"، "ہیہات منا الذلۃ"، کے نعرے لگاتے ہوئے شیعہ علاقوں میں جبر و تشدد کی کاروائیوں کی مذمت کی۔ انھوں نے سعودی حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسیروں کو فوری طور پر رہا کردیں اور نوجوانوں کے قتل میں ملوث اہلکاروں پر مقدمہ چلائیں۔ــ سعودی عرب: سعودی اہلکاروں نے پرامن شہریوں  پر گولی چلائیباخبر ذرائع کے مطابق آل سعود سے وابستہ سیکورٹی والوں نے العوامیہ میں عوام پر اندھادھند فائرنگ کی۔اطلاعات کے مطابق آل سعود کے گماشتوں نے منطقۃالشرقیہ کے علاقے العوامیہ میں پرامن عوام پر بلااشتعال اندھادھند فائرنگ کی۔فائرنگ کے نتیجے میں مالی اور جانی نقصانات کے بارے میں کوئی خبر موصول نہیں ہوسکی ہے۔ــ سعودی عرب: القدیح میں شہداء کے ساتھ تجدید عہد اور ریلیاںمنطقۃالشرقیہ کے علاقے القدیح میں پرسوں رات سینکڑوں باشندوں نے آل سعود کے خلاف پر امن طور پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔اطلاعات کے مطابق منطقۃالشرقیہ کے علاقے قدیح کے عوام نے "شہداء کے ساتھ تجدید" کے تحت ریلی نکالی۔جزیرة العرب کے نوجوانوں نے عوام کو ایک سماجی ویب بیس پر اس ریلی میں شرکت کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ یہ مظاہرہ شہداء کے ساتھ وفاداری کے اعلان اور ان کی تحریک جاری رکھنے کا عہد کرنے کی نیت سے ہورہا ہے۔ مظاہرین کے نعرے کچھ یوں تھے: "اسیروں کو رہا کرو"، "فائرنگ کرنے والوں کو سزا دو"، "خون تلوار پر غالب آئے گا"، "مجرموں کو سزا دو" اور "محمد بن فہد سرنگوں ہونا چاہئے"، وغیرہ۔القدیح کے مظاہرین نے الشرقیہ کے حکمران "محمد بن فہد" کو نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کی فوری برخاستگی کا مطالبہ کیا۔ــ سعودی عرب: شیعہ عالم دین کے اغوا کی کوشش ناکام ہوگئیآل سعود کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے منطقۃالشرقیہ کے ایک شیعہ عالم دین کے اغوا کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ اطلاعات کے مطابق منطقۃالشرقیہ کے عوام سعودی فورسزکے ہاتھوں شیعہ عالم دین کے اغوا کے منصوبے کی اطلاع پا کر ان کی حمایت کے لئے اکٹھے ہوگئے اور سعودی فورسز کے اس مذموم منصوبے کو ناکام بنایا۔شیعہ عالم دین کے اغوا کی اس ناکام کوشش کے بعد القطیف کے عوام نے پرسوں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔جزیرة العرب میں ذرائع نے بتایا کہ آل سعود سے وابستہ بعض سرکاری اہلکاروں نے منطقۃالشرقیہ کے نامور عالم دین شیخ نمر کو اغوا کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے ہمراہ آنے والے افراد کی مزاحمت اور سرکاری غنڈون کے خفیہ مورچے کے سامنے نوجوانوں کے اجتماع کی وجہ سے یہ سازش ناکام ہوگئی۔آل سعود کے ذرائع ابلاغ نے کچھ دن قبل کہا تھا کہ "شیخ نمر پر قاتلانہ حملے کا خطرہ موجود ہے" جس کے بعد مبصرین نے اس سعودی تشہیری مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آل سعود نے گویا ان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کی ذمہ داری نامعلوم افراد پر عائد کرنے کے لئے یہ مہم چلائی گئي ہے۔سرکاری غنڈے العوامیہ کے علاقے میں شیخ نمر النمر کی رہائشگاہ اور مسجد امام حسین (ع) کے درمیان راستے میں ایک غیر گنجان آباد مقام پر گھات لگائے بیٹھے تھے۔واضح رہے کہ شیخ نمر النمر اصلاح پسند عالم دین کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں بھی جمہوری ملکوں کی مانند منتخب جمہوری اداروں کا ہونا لازمی ہے، اور آل سعود کے گماشتوں نے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ انہیں اغوا کرنے کی کوششیں کی ہیں جبکہ کئی شیعہ علماء آج بھی مقدمہ چلائے اور جج کے سامنے پیش کئے بغیر آل سعود کے اذیتکدوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔

ــ سعودی عرب: آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل اسیروں کا انجام نامعلوممنطقۃ الشرقیہ کے شہر القطیف کے عوام حال ہی میں گرفتار ہونے والے نوجوان کے انجام سے بے خبر ہیں۔آل سعود نے اتوار کی شام  کے وقت ایک نوجوان حسین آل طرموخ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔حسین آل طرموخ کو شہر القطیف میں داخل ہوتے ہی آل سعود کے گماشتوں نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور سعودی اہلکار عوام کے اس مطالبے کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں کہ انہیں کس مقام پر رکھا گیا ہے اور ان کی صحت و سلامتی کے بارے میں بھی کچھ بتانے سے گریز کررہے ہیں۔ آل طرموخ کے علاوہ دو دیگر فعال افراد علی الدبیسی اور فاضل المناسف بھی آل سعود کی سیکورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں اور ان کے بارے میں بھی کسی کو کوئی خیر خبر نہیں ہے گوکہ بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ الدبیسی کو عدالت میں پیش کئے بغیر الدمام کی جیل میں منتقل کیا گیا ہے لیکن المناسف کے  اہل خانہ نے بتایا ہے کہ وہ اپنے فرزند کے انجام سے بے خبر ہیں۔ادھر زکریا آل صفوان نیز نذیر الماجد نامی ایک مؤلف بھی مقدمہ چلائے بغیر آل سعود کے اذیتکدوں میں اسیر ہیں۔ آل سعود کی فورسز نے 3 اکتوبر 2011 کی شام کو نام یوسف ناصر آل ربح کو گرفتار کیا اور یہ وہ دن تھا جب آل سعود کے درندوں نے دو عمر رسیدہ بزرگوں کو العوامیہ میں گرفتار کیا تھا تا کہ ان کے بیٹے آکر گرفتاری دے دیں۔عمر رسیدہ بزرگوں کی گرفتاری پر العوامیہ کے عوام سراپا احتجاج بن گئے اور آل سعود کے درندوں نے فائرنگ کرکے دو خواتین سمیت کئی افراد کو زخمی کیا۔ انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرم کارکنوں نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آل سعود کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کو روحانی اور جسمانی طور پر ٹارچر کیا جاتا ہے اور کئی کئی مہینوں تک قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور آل سعود کے سیکورٹی اہلکار کئی کئی گھنٹوں تک انہيں زد و کوب کرتے ہیں اور انہیں کئی کئی دن تک سونے نہیں دیا جاتا۔  عقیل الشاخوری نامی ایک نوجوان تین مہینوں سے سعودی سیکورٹی فورسز کے کسی اذیتکدے میں محبوس ہیں اور ان کے خاندان کو ان کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے گریز کیا جارہا ہے۔

ــ آل سعود نے طب کے شعبے میں "ملک فیصل قومی ایوارڈ" ایک امریکی یہودی کو دیا!آل سعود نے ملک فیصل طبی ایوارڈ امریکہ کی اسٹانفورڈ یونیورسٹی (Stanford University) کے یہودی پروفیسر رونالڈ لیوی (Ronald Levy)  کو دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق لیوی نے یہ ایوارڈ پانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ایسے مقابلے میں ایوارڈ کا حقدار ٹہروں کا جس کے مہتممین سعودی ہوں! کیونکہ میں نہ صرف ایک یہودی ہوں بلکہ میری بیوی بھی یہودی ہے اور اس کا تعلق اسرائیل سے ہے!!۔لیوی بیچارے کو بھی شاید بہت سے مسلمانوں کی طرح غلط فہمی ہوگئي تھی کہ آل سعود اسلام کے دوست و ہمدرد اور اسرائیل کے جانی دشمن ہیں!!!۔لیوی صرف حیرت زدہ ہیں نہیں تھا بلکہ وہ خوفزدہ بھی تھا اور اس نے صہیونی روزنامے "ہاآرتص" کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: مجھے جب بتایا گیا کہ مجھے ایک سعودی ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا ہے تو مجھے ایوارڈ کی متعلقہ ویب س